چاند کی ننھی جمائی

ایک چھوٹے سے تالاب کے پاس مٹھو نام کا کچھوا رہتا تھا۔ اس کا گھر ہری گھاس کے پیچھے تھا۔ مٹھو کو شام بہت اچھی لگتی تھی۔ جب ہوا آہستہ چلتی، تو وہ باہر آ کر بیٹھ جاتا۔ ایک شام اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ گول سا چاند نکل رہا تھا، اور ایک ننھا ستارہ چمک رہا تھا۔
تالاب کے کنارے مٹھو کی ایک چھوٹی کشتی تھی۔ اس میں نرم گدی اور دو چھوٹے تکیے رکھے تھے۔ مٹھو نے کہا، “آج میں کشتی میں بیٹھ کر چاند کو دیکھوں گا۔” اس نے کشتی صاف کی اور گدی سیدھی کی۔ پھر وہ آہستہ سے اندر بیٹھ گیا۔ پانی نے کشتی کو ہلکا سا ہلایا، جیسے کوئی پیار سے جھولا جھلا رہا ہو۔
تب ایک سفید بطخ پاس آئی۔ اس نے پوچھا، “مٹھو، کیا میں بھی تمہارے ساتھ بیٹھ سکتی ہوں؟” مٹھو مسکرایا اور بولا، “ہاں، ضرور! یہ نرم تکیہ تم لے لو۔” بطخ خوش ہو کر کشتی میں بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ننھا خرگوش بھی آیا۔ مٹھو نے اس کے لیے جگہ بنائی اور کہا، “آؤ، ہم سب مل کر چاند دیکھیں گے۔”
تینوں دوست کشتی میں بیٹھے تھے۔ مٹھو نے چھوٹا سا چپو چلایا، اور کشتی دھیرے دھیرے آگے بڑھی۔ چاند کی روشنی پانی پر پڑ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے پانی پر دودھ کی پتلی لکیر بن گئی ہو۔ ننھے ستارے نے اوپر سے آنکھ جھپکی۔ خرگوش نے ہاتھ ہلایا اور بولا، “سلام، پیارے ستارے!” بطخ نے بھی خوشی سے سلام کیا۔
چاند نے مسکرا کر کہا، “تم سب اتنے خوش کیوں ہو؟” مٹھو بولا، “کیونکہ ہم ساتھ ہیں، اور سب کے لیے جگہ ہے۔” ننھے ستارے نے کہا، “تم نے اپنے دوستوں کو تکیے بھی دیے!” مٹھو ہنسا۔ “دوست آرام سے بیٹھیں تو مجھے بھی خوشی ہوتی ہے۔” بطخ نے اپنا تکیہ تھوڑا سا کھسکایا، تاکہ مٹھو بھی اس پر سر رکھ سکے۔
اب خرگوش نے ایک دھیمی سی لوری گائی۔ بطخ نے آہستہ آہستہ اس کا ساتھ دیا۔ مٹھو خاموش ہو کر سنتا رہا۔ اوپر چاند نے ایک ننھی سی جمائی لی۔ ستارہ ہنس کر بولا، “لگتا ہے چاند کو بھی نیند آ رہی ہے!” سب دوست دھیرے سے ہنسے۔ پھر مٹھو نے کشتی کنارے لگائی اور سب کو پیار سے گھر جانے کے لیے کہا۔
بطخ اور خرگوش نے مٹھو کا شکریہ ادا کیا۔ مٹھو بولا، “سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اس سے سب خوش ہوتے ہیں۔” پھر وہ اپنے گھر میں گیا، نرم بستر پر لیٹا اور چادر اوڑھ لی۔ چاند کی ہلکی روشنی کھڑکی سے اندر آئی۔ ننھا ستارہ چپ چاپ چمکتا رہا۔ مٹھو نے آنکھیں بند کیں، مسکرایا، اور میٹھے خوابوں میں سو گیا۔